سعید راجہ ۔۔۔ جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں

جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں
چاہتا ہوں کہ تجھے دنیا سے کٹ کر دیکھوں

منتظر ہو گا سرِ راہِ تمنا کوئی
میں اگر دید کی دنیاؤں سے ہٹ کر دیکھوں

دل اسی طور لگاتا رہا آواز اگر
عین ممکن ہے کسی روز پلٹ کر دیکھوں

کچھ رعایت نہ کوئی رحم نہ جانبداری
تم جو چاہو تو میں خود سے بھی نپٹ کر دیکھوں

میرے ہونے کی کوئی اس میں نشانی ہو گی
ایک دن وقت کی زنبیل الٹ کر دیکھوں

اے مرے عکس! تو آئینے سے باہر آ جا
باہر آ جا کہ ذرا تجھ سے لپٹ کر دیکھوں

یہ جو سینے میں کوئی گرد سی اڑتی ہے سعید
دل تو کرتا ہے اسی گرد میں اٹ کر دیکھوں

Related posts

Leave a Comment